نیوزی لینڈ پالک
سبزیاں

غذائیت کی جھلکیاں

کچاکٹا ہواپتے
فی
(56g)
0.84gپروٹین
1.4gکل کاربوہائیڈریٹس
0.11gکل چکنائی
کیلوریز
7.84 kcal
غذائی فائبر
3%0.84g
وٹامن کے (Phylloquinone)
157%188.72μg
وٹامن سی
18%16.8mg
مینگنیز
15%0.36mg
وٹامن بی 6
10%0.17mg
تانبا
5%0.05mg
رائبو فلیون (B2)
5%0.07mg
وٹامن ای
5%0.8mg
میگنیشیم
5%21.84mg

نیوزی لینڈ پالک

تعارف

نیوزی لینڈ پالک، جسے سائنسی زبان میں ٹیٹراگونیا بھی کہا جاتا ہے، سبزیوں کی دنیا میں ایک انتہائی منفرد مقام رکھتی ہے۔ اپنی شکل و صورت اور ذائقے میں روایتی پالک سے مماثلت رکھنے کے باوجود، یہ نباتاتی لحاظ سے مختلف خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اپنے سخت جان مزاج کی بدولت مشہور ہے۔ یہ پودا گرم موسم میں بھی اپنی تازگی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہ ان علاقوں کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے جہاں عام پالک کی کاشت مشکل ہوتی ہے۔

اس سبزی کی سب سے بڑی کشش اس کی انتھک نشوونما اور پتوں کی کثرت ہے۔ اس کے پتے گہرے سبز، تکون نما اور تھوڑے موٹے ہوتے ہیں، جو پکانے کے بعد بھی اپنی ساخت کو کافی حد تک برقرار رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے ساحلی علاقوں کی مقامی نباتات سمجھی جاتی ہے، مگر اب اسے دنیا بھر کے کچن گارڈنز میں اپنی سہولت اور افادیت کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے۔

پکوان میں استعمال

نیوزی لینڈ پالک کا استعمال باورچی خانے میں نہایت ورسٹائل ہے کیونکہ یہ کچی اور پکی دونوں صورتوں میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ کچے پتوں کو سلاد میں شامل کرنا ایک بہترین تجربہ ہے، کیونکہ یہ روایتی پالک کے مقابلے میں زیادہ کرسپی محسوس ہوتے ہیں۔ پکاتے وقت اسے ہلکا سا بھاپ میں نرم کرنا یا سوتے کرنا اس کے قدرتی ذائقے کو ابھارنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

اس کا ذائقہ ہلکا سا نمکین اور مٹی جیسا ہوتا ہے، جو دالوں، سبزیوں کے سالن یا پاستا کے ساتھ بہت اچھا امتزاج بناتا ہے۔ پاکستان میں اسے روایتی پالک گوشت یا آلو پالک کی ترکیبوں میں ایک متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں یہ پکنے کے بعد ایک خوشگوار اور متوازن ذائقہ فراہم کرتی ہے۔ لیموں کے رس اور تھوڑے سے لہسن کے ساتھ اس کا امتزاج اس کے ذائقے کو چار چاند لگا دیتا ہے۔

غذائیت اور صحت

نیوزی لینڈ پالک کو غذائیت کا ایک پاور ہاؤس سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر یہ وٹامن کے کا ایک بہترین ذریعہ ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی اور خون جمنے کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں موجود وٹامن سی کی قابل ذکر مقدار قوتِ مدافعت کو بڑھانے اور جلد کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ دونوں اجزاء مل کر جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے اور آکسیڈیٹو تناؤ کے خلاف لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔

اس سبزی کی ایک اور اہم خوبی اس میں موجود غذائی ریشے اور میگنیزیئم کی موجودگی ہے، جو نظامِ انہضام کی فعالیت اور توانائی کے میٹابولزم کو درست رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ نباتاتی غذائیت سے بھرپور ہونے کے باوجود انتہائی کم کیلوریز رکھتی ہے، جس سے یہ متوازن غذا کے متلاشی افراد کے لیے ایک بہترین اور ہلکا پھلکا انتخاب بن جاتی ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال جسم کو درکار معدنیات فراہم کر کے مجموعی صحت کو برقرار رکھنے میں معاون ہے۔

تاریخ اور آغاز

اس پودے کی تاریخ کا آغاز نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور جاپان کے ساحلی علاقوں سے ہوتا ہے، جہاں یہ صدیوں سے مقامی لوگوں کی خوراک کا حصہ رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مشہور مہم جو کیپٹن کوک نے اس پودے کو ان علاقوں میں دریافت کیا تھا اور اسے جہاز رانی کرنے والوں کے لیے ایک طبی اور غذائی سہارا سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت اس کا استعمال سمندری سفر کے دوران سکروی جیسی بیماریوں سے بچنے کے لیے کیا جاتا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ پودا دنیا بھر کے دیگر خطوں میں متعارف کرایا گیا، خاص طور پر برطانیہ اور یورپ کے باغبانوں نے اسے گرم موسم کے متبادل کے طور پر اپنایا۔ آج یہ جدید باغبانی اور زرعی تحقیق میں اپنی خشک سالی کے خلاف مزاحمت اور بیماریوں سے بچنے کی صلاحیت کی وجہ سے ایک اہم پودا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تاریخی اہمیت ایک ایسی سبزی کے طور پر قائم ہے جس نے مشکل حالات میں بھی انسانی آبادیوں کو غذائیت فراہم کی ہے۔