مٹرمنجمد سے پکے ہوئےدالیں اور پھلیاں
غذائیت کی جھلکیاں
مٹر — منجمد سے پکے ہوئے▼
مٹر
تعارف
مٹر، جنہیں نباتاتی طور پر Pisum sativum کہا جاتا ہے، پھلی دار پودوں کے خاندان کا ایک اہم اور مقبول رکن ہیں۔ یہ چھوٹے، گول اور سبز بیج اپنی مٹھاس اور ورسٹائل ذائقے کی وجہ سے دنیا بھر کے دسترخوانوں کی زینت بنتے ہیں۔ پاکستان میں، یہ موسم سرما کی آمد کا ایک خوشگوار اشارہ سمجھے جاتے ہیں اور تازہ فصل کے دوران ہر باورچی خانے میں نمایاں ہوتے ہیں۔
ان کی ظاہری شکل ایک کٹھور، سبز پھلی کے اندر چھپے ہوئے موتیوں جیسی ہوتی ہے، جو توڑنے پر ایک تازہ اور قدرتی مہک کا احساس دلاتی ہے۔ مٹر نہ صرف ذائقے میں بہترین ہیں بلکہ یہ کھانوں میں رنگ و روپ پیدا کرنے کے لیے بھی بے حد پسند کیے جاتے ہیں۔ ان کی کاشت صدیوں سے ہو رہی ہے اور یہ اپنی غذائی افادیت کے ساتھ ساتھ آسانی سے دستیاب ہونے کی وجہ سے ایک مقبول سبزی ہیں۔
پکوان میں استعمال
مٹر کو پکانے کے لیے ابالنا، بھاپ میں پکانا یا ہلکا سا فرائی کرنا سب سے عام طریقے ہیں۔ ان کی تیاری کا عمل نہایت سادہ ہے، کیونکہ یہ بہت جلد گل جاتے ہیں اور اپنے اندر موجود قدرتی مٹھاس کو برقرار رکھتے ہیں۔ سبزیوں کے ساتھ ملا کر پکانے سے لے کر پلاؤ اور بریانی میں شامل کرنے تک، مٹر ہر کھانے میں ایک الگ ہی ذائقہ شامل کرتے ہیں۔
ان کا ذائقہ ہلکا میٹھا اور کرسپی ہوتا ہے، جو انہیں گوشت، آلو، اور پنیر جیسے اجزاء کے ساتھ بہترین جوڑی بناتا ہے۔ پاکستانی کھانوں میں، مٹر گوشت کا سالن یا آلو مٹر کی سبزی گھر گھر میں پسند کی جاتی ہے، جہاں گرم مصالحہ جات کے ساتھ ان کی مٹھاس ایک متوازن ذائقہ پیدا کرتی ہے۔
جدید باورچی خانے میں، مٹر کا استعمال سلاد، سوپ، اور یہاں تک کہ پاستا اور پیزا کی ٹاپنگز میں بھی کیا جا رہا ہے۔ یہ اپنی ساخت اور رنگت کی وجہ سے سجاوٹ کے لیے بھی بہترین ہیں، اور فریزر میں محفوظ کیے جانے کے بعد بھی یہ اپنی غذائیت اور ذائقے کا کافی حد تک تحفظ کرتے ہیں۔
غذائیت اور صحت
مٹر غذائی ریشہ اور نباتاتی پروٹین کا ایک بہترین ذریعہ ہیں، جو نظام ہاضمہ کو درست رکھنے اور جسمانی توانائی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ان میں موجود فولیٹ اور وٹامن کے کی وافر مقدار ہڈیوں کی مضبوطی اور خون کے خلیوں کی صحت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ، یہ سبزی وٹامن سی اور کئی اہم بی-کمپلیکس وٹامنز جیسے تھایامین سے مالا مال ہے، جو مدافعتی نظام کو تقویت دینے اور میٹابولزم کو متحرک رکھنے میں معاون ہیں۔ ان کا استعمال انسانی جسم کے لیے اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتا ہے جو خلیات کی حفاظت میں مدد دیتے ہیں۔
مٹر میں کیلوریز کی کم مقدار اور فائبر کی بہتات اسے ان لوگوں کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتی ہے جو وزن کو متوازن رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں، جس سے یہ روزمرہ کی غذا کا ایک نہایت مفید حصہ بن جاتے ہیں۔
تاریخ اور آغاز
مٹر کی تاریخ ہزاروں سال قدیم ہے، جس کے شواہد بحیرہ روم کے خطے اور مشرق وسطیٰ سے ملتے ہیں۔ قدیم دور میں، یہ فصلیں انسانی تہذیبوں کے ارتقاء میں ایک بنیادی خوراک کی حیثیت رکھتی تھیں، کیونکہ انہیں خشک کر کے طویل عرصے تک ذخیرہ کیا جا سکتا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، مٹر کی کاشت دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئی اور اس کی کئی اقسام متعارف کرائی گئیں۔ یورپ میں قرون وسطیٰ کے دوران یہ عام لوگوں اور شاہی دسترخوان، دونوں کا حصہ بنے، اور ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔
سائنسی تاریخ میں مٹر کا مقام اس وقت امر ہو گیا جب گریگور مینڈل نے ان پر جینیاتی تجربات کیے، جس سے وراثت کے قوانین دریافت ہوئے۔ آج، مٹر نہ صرف ایک غذائی ضرورت ہے بلکہ زرعی تحقیق اور باغبانی کی دنیا میں بھی ایک اہم علامت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
