شریفہ
پھل

غذائیت کی جھلکیاں

کچاگودا
فی
(250g)
5.15gپروٹین
59.1gکل کاربوہائیڈریٹس
0.73gکل چکنائی
کیلوریز
235 kcal
غذائی فائبر
39%11g
وٹامن سی
100%90.75mg
وٹامن بی 6
29%0.5mg
تانبا
23%0.22mg
تھایامن (B1)
22%0.28mg
رائبو فلیون (B2)
21%0.28mg
نیاسین (B3)
13%2.21mg
پوٹاشیم
13%617.5mg
میگنیشیم
12%52.5mg

شریفہ

تعارف

شریفہ، جسے عام طور پر سیتا پھل یا آتھا بھی کہا جاتا ہے، اپنے منفرد بیرونی ڈھانچے اور اندرونی کریم نما گودے کی وجہ سے پھلوں کی دنیا میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اس پھل کا نباتاتی نام Annona squamosa ہے اور یہ اپنے دلکش ذائقے اور ملائی دار ساخت کے لیے بے حد مقبول ہے۔ اس کا بیرونی خول چھوٹے چھوٹے ابھرے ہوئے حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو پکنے پر نرم ہو جاتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اب لطف اندوز ہونے کے لیے تیار ہے۔

یہ پھل گرم مرطوب آب و ہوا میں بہترین نشوونما پاتا ہے اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں موسم گرما کے اختتام پر باغات کی رونق بڑھاتا ہے۔ شریفہ کی ظاہری شکل ایک چھوٹے صنوبر یا دل کی مانند ہوتی ہے، جس کے اندر سیاہ رنگ کے چمکدار بیج چھپے ہوتے ہیں۔ اس کی تازگی اور مٹھاس اسے گرم موسم کا ایک انمول تحفہ بناتی ہے جسے دیکھ کر ہی منہ میں پانی آ جاتا ہے۔

صارفین کے لیے بہترین شریفہ کا انتخاب کرتے وقت اس کی نرمی اور رنگت پر توجہ دینا ضروری ہے۔ ایک اچھے اور پکے ہوئے پھل کو ہلکے دباؤ پر نرم محسوس ہونا چاہیے، جبکہ اس کی جلد پر موجود نشانات اس کے قدرتی اور تازہ ہونے کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ بہت جلد مکمل طور پر پک کر نرم ہو جاتا ہے، اس لیے اسے خریدنے کے فوراً بعد استعمال کرنا ہی اس کے بہترین ذائقے سے لطف اندوز ہونے کا بہترین طریقہ ہے۔

پکوان میں استعمال

شریفہ کو استعمال کرنے کا سب سے عام اور مقبول طریقہ اسے کچا کھانا ہے، جس میں پھل کو درمیان سے دو حصوں میں کاٹ کر چمچ کی مدد سے اس کے گودے کو نکال لیا جاتا ہے۔ اس کے بیجوں کو الگ کرنا اس عمل کا ایک اہم حصہ ہے، کیونکہ انہیں نہیں کھایا جاتا۔ گودے کا ذائقہ ہلکا مٹھاس والا اور ساخت انتہائی ریشمی ہوتی ہے، جو اسے کسی بھی دوسرے پھل سے ممتاز بناتی ہے۔

اس کی مٹھاس اور کریمی ساخت اسے میٹھے پکوانوں کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتی ہے۔ بہت سے لوگ اسے دودھ کے ساتھ ملا کر ایک مزیدار ملک شیک یا سموتھی تیار کرتے ہیں، جو گرمیوں میں تازگی بخشتی ہے۔ اس کا گودا آئس کریم، کلفی اور دہی کے ساتھ ملا کر ایک منفرد ذائقہ پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جو اسے سادہ اور جدید کھانوں میں یکساں مقبول بناتا ہے۔

روایتی طور پر شریفہ کو مختلف مٹھائیوں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جہاں اس کا گودا ذائقے کو مزید گہرا کرنے کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں اسے اکثر پھلوں کے سلاد میں شامل کیا جاتا ہے، جہاں اس کی ملائی دار ساخت دیگر کرکرے پھلوں کے ساتھ ایک زبردست تضاد پیدا کرتی ہے۔ اس کی استعداد اسے ایک سادہ سنیک سے لے کر شاہی میٹھے تک کا حصہ بننے کے قابل بناتی ہے۔

جدید باورچی خانے میں، شریفہ کو مختلف تجرباتی کھانوں میں بھی آزمایا جا رہا ہے، جیسے کہ اسے کیک یا پیسٹری کی ٹاپنگ کے طور پر استعمال کرنا۔ اس کی لطیف مہک اور قدرتی مٹھاس اسے بیکنگ کے لیے ایک بہترین جزو بناتی ہے، جہاں یہ مصنوعی مٹھاس کی ضرورت کو کم کر سکتی ہے۔ تخلیقی مہارت کے ساتھ، شریفہ سے بنے ہوئے میٹھے کسی بھی ضیافت کو چار چاند لگا سکتے ہیں۔

غذائیت اور صحت

شریفہ ایک غذائیت سے بھرپور پھل ہے جو خاص طور پر وٹامن سی اور غذائی ریشوں کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ وٹامن سی کی شاندار مقدار مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور جسمانی خلیات کی حفاظت کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، جبکہ اس میں موجود وافر ریشے نظام انہضام کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ مرکبات مل کر جسم کو صحت مند رکھنے اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

وٹامن بی کمپلیکس، خاص طور پر بی 6، شریفہ میں نمایاں مقدار میں پایا جاتا ہے جو دماغی افعال اور توانائی کے میٹابولزم کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں پوٹاشیم اور میگنیشیم جیسے معدنیات کی موجودگی دل کی صحت اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ تمام غذائی اجزاء باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہوئے جسمانی قوت اور تندرستی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

شریفہ کی ایک اور خاصیت اس میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس ہیں، جو جسم میں آکسیڈیٹیو تناؤ کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس میں موجود کاپر بھی اہم ہے جو خون کے سرخ خلیات کی تشکیل اور ہڈیوں کی مضبوطی میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ یہ پھل ان افراد کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے جو اپنی روزمرہ خوراک میں قدرتی مٹھاس کے ساتھ ساتھ صحت بخش اجزاء بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔

تاریخ اور آغاز

شریفہ کا آبائی وطن امریکی براعظم کے ٹراپیکل خطے مانے جاتے ہیں، جہاں سے یہ تاریخ کے مختلف ادوار میں دنیا کے دیگر حصوں تک پہنچا۔ ابتدائی طور پر اسے وسطی اور جنوبی امریکہ میں کاشت کیا جاتا تھا، جہاں مقامی لوگ اس کی لذت اور افادیت سے بخوبی واقف تھے۔ ہسپانوی اور پرتگالی مہم جوؤں کے ذریعے یہ پھل افریقہ اور ایشیا کے گرم خطوں تک پہنچا، جہاں کی آب و ہوا اس کے لیے سازگار ثابت ہوئی۔

برصغیر پاک و ہند میں شریفہ کی آمد کے بعد سے یہ مقامی ثقافت اور کھانوں کا ایک ناقابل فراموش حصہ بن چکا ہے۔ اسے بہت جلد یہاں کی مٹی اور ماحول نے اپنا لیا، اور یہ باغات کا ایک اہم پھل بن گیا۔ تاریخ کے صفحات میں اس کا ذکر اکثر شاہی دسترخوانوں کے حوالے سے ملتا ہے، جہاں اسے ایک نفیس پھل کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

آج شریفہ پوری دنیا کے ٹراپیکل علاقوں میں وسیع پیمانے پر اگایا جاتا ہے، جس سے اس کی مانگ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ جدید زراعت نے اس کی کاشت کے طریقوں کو بہتر بنایا ہے، جس سے اس کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور یہ اب عام منڈیوں میں باآسانی دستیاب ہے۔ عالمی تجارت نے اس پھل کو ایک علاقائی سوغات سے نکال کر بین الاقوامی سطح پر ایک پسندیدہ انتخاب بنا دیا ہے۔