بہہیپھل
غذائیت کی جھلکیاں
بہہی
بہہی
تعارف
بہہی، جسے سائنسی زبان میں Cydonia oblonga کہا جاتا ہے اور اردو میں سفرجل کے نام سے بھی معروف ہے، ایک قدیم اور منفرد پھل ہے۔ دیکھنے میں یہ سیب اور ناشپاتی کا ایک ملا جلا روپ لگتا ہے، لیکن اپنی خاص خوشبو اور سخت بناوٹ کی وجہ سے یہ ان سے بالکل الگ شناخت رکھتا ہے۔ یہ پھل اپنی دلکش سنہری رنگت اور خوشگوار مہک کے باعث قدیم زمانوں سے ہی بہت پسند کیا جاتا رہا ہے۔
اس پھل کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا سخت گودا اور کچا ہونے کی صورت میں ایک منفرد، کسیلا ذائقہ ہے، جس کی وجہ سے اسے عام طور پر پکا کر ہی کھایا جاتا ہے۔ جیسے ہی یہ پکنا شروع ہوتا ہے، اس کا رنگ تبدیل ہو کر گہرا زرد ہو جاتا ہے اور اس کی خوشبو پورے گھر کو معطر کر دیتی ہے۔ موسم سرما میں جب یہ بازاروں میں آتا ہے، تو اسے گھروں میں سجاوٹ اور ذائقے دونوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
پکوان میں استعمال
بہہی کو کھانے کے لیے اسے پکانا ایک فن سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کا سخت گودا پکنے کے بعد انتہائی نرم اور ریشمی ہو جاتا ہے۔ اسے عام طور پر پانی یا شربت میں ہلکی آنچ پر ابالا جاتا ہے، جس سے اس کا ذائقہ نکھر کر سامنے آتا ہے۔ بہت سے لوگ اسے چینی اور مسالوں کے ساتھ پکا کر ایک لذیذ مربہ تیار کرتے ہیں جو ناشتے میں نہایت شوق سے کھایا جاتا ہے۔
اس کا ذائقہ مٹھاس اور ہلکی سی ترشی کا ایک حسین امتزاج ہے، جو اسے میٹھے اور نمکین دونوں طرح کے کھانوں کے لیے موزوں بناتا ہے۔ یہ گوشت کے سالن بالخصوص مٹن کے ساتھ پکانے پر ایک منفرد ذائقہ پیدا کرتا ہے، جو پاکستان اور وسطی ایشیائی کھانوں میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اسے اکثر حلوے، پیسٹری اور پھلوں کے سلاد میں بھی استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ان میں ایک الگ خوشبو پیدا کی جا سکے۔
غذائیت اور صحت
بہہی وٹامن سی کا ایک بہترین ذریعہ ہے، جو جسمانی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے اور جلد کی صحت کو بہتر رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں موجود تانبے (Copper) کی اچھی مقدار میٹابولزم کو درست رکھنے اور ہڈیوں کی مضبوطی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اپنی ان خصوصیات کی بدولت، یہ پھل مجموعی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مفید غذا سمجھا جاتا ہے۔
غذائی ریشہ (Fiber) سے بھرپور ہونے کی وجہ سے، یہ نظام انہضام کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس میں پائے جانے والے قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس خلیات کو بیرونی دباؤ اور سوزش سے بچانے میں معاونت کرتے ہیں، جس سے جسم کو طویل مدتی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اسے اپنی غذا کا حصہ بنانا ایک متوازن طرز زندگی کے لیے بہترین انتخاب ہے۔
تاریخ اور آغاز
بہہی کا تعلق بنیادی طور پر قفقاز اور وسطی ایشیا کے خطوں سے ہے، جہاں سے یہ قدیم یونانی اور رومی تہذیبوں تک پہنچا۔ قدیم تاریخ میں اسے محبت اور زرخیزی کی علامت سمجھا جاتا تھا اور یونانی دیومالائی کہانیوں میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ قدیم زمانے میں اسے صرف پھل کے طور پر ہی نہیں، بلکہ اس کی دلکش خوشبو کی وجہ سے کمروں کو مہکانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
صدیوں کے سفر کے دوران، یہ پھل مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے کھانوں میں رچ بس گیا۔ برصغیر پاک و ہند میں اس کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کے طبی فوائد اور روایت میں اس کا گہرا اثر ہے۔ آج یہ پوری دنیا میں کاشت کیا جاتا ہے اور جدید دور میں بھی اسے اپنی منفرد خصوصیات کی بنا پر ایک خاص اور روایتی پھل کی حیثیت حاصل ہے۔
