انگور
پانی میں محفوظپھل

غذائیت کی جھلکیاں

ڈبہ بندثابتتھامسن سیڈلیسبغیر چینی کے
فی
(245g)
1.23gپروٹین
25.24gکل کاربوہائیڈریٹس
0.27gکل چکنائی
کیلوریز
98 kcal
غذائی فائبر
5%1.47g
وٹامن کے (Phylloquinone)
20%24.01μg
تانبا
15%0.14mg
آئرن
13%2.4mg
وٹامن بی 6
9%0.16mg
تھایامن (B1)
6%0.08mg
پوٹاشیم
5%262.15mg
رائبو فلیون (B2)
4%0.06mg
مینگنیز
4%0.1mg

انگور

تعارف

تھامسن سیڈلیس انگور، جنہیں عام طور پر کشمشی انگور بھی کہا جاتا ہے، اپنی مٹھاس اور بیجوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ یہ انگور اپنی مخصوص سنہری سبز رنگت اور کرکرے پن کے لیے جانے جاتے ہیں، جو انہیں پھلوں کی ٹوکری کا ایک بہترین انتخاب بناتے ہیں۔ ان کی ہموار جلد اور رسیلا گودا ایک ایسی لذت فراہم کرتا ہے جو بچوں اور بڑوں دونوں میں یکساں پسندیدہ ہے۔

یہ قسم نہ صرف کھانے میں آسان ہے بلکہ اس کی ورسٹائل خصوصیات اسے پھلوں کے سلاد، ڈیسرٹس اور مشروبات میں ایک اہم جزو بناتی ہیں۔ پاکستان میں انگور کا موسم آتے ہی یہ بازاروں میں اپنی بہار دکھاتے ہیں، جہاں لوگ انہیں تازہ کھانا بے حد پسند کرتے ہیں۔ ان کی بیج سے پاک فطرت انہیں سنیکنگ کے لیے ایک مثالی اور بے تکلف پھل بناتی ہے۔

کاشتکاری کے لحاظ سے یہ انگور گرم اور خشک موسم میں خوب پھلتے پھولتے ہیں، جو انہیں کئی خطوں کی زرعی پیداوار کا اہم حصہ بناتا ہے۔ ان کی پائیداری اور اسٹوریج کی صلاحیت کی وجہ سے انہیں سال کے طویل عرصے تک تازہ یا خشک حالت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پکوان میں استعمال

تھامسن سیڈلیس انگور کچن میں اپنی کثیر جہتی صلاحیتوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہیں دھو کر براہ راست تازہ کھایا جا سکتا ہے، یا پھر سلاد میں شامل کر کے ایک قدرتی مٹھاس اور کرکرا پن پیدا کیا جا سکتا ہے۔ کینڈ (canned) شکل میں یہ اکثر میٹھے پکوانوں اور فروٹ ٹرائفلز کو سجانے اور ان کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

ان کا ذائقہ ہلکا پھلکا اور میٹھا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ پنیر کے پلیٹرز اور خشک میوہ جات کے ساتھ بہت اچھی طرح جڑتے ہیں۔ سلاد میں کھیرے، پودینے اور دہی کے ساتھ ان کا امتزاج ایک تازگی بخش تجربہ فراہم کرتا ہے۔ باورچی اکثر انہیں بیکنگ میں بھی استعمال کرتے ہیں تاکہ کیک یا مفنز کو ایک قدرتی مٹھاس دی جا سکے۔

پاکستان میں انگوروں کو خاص طور پر گرمیوں کے مشروبات میں شامل کرنا ایک روایت ہے۔ انہیں بلینڈ کر کے یا فروٹ پنچ میں ڈال کر ایک ٹھنڈا اور فرحت بخش احساس حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، انہیں فریز کر کے ایک صحت مند 'فروزن سنیک' کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے جو گرمی کے دنوں میں بہترین رہتا ہے۔

غذائیت اور صحت

تھامسن سیڈلیس انگور وٹامن کے اور کاپر کا ایک عمدہ ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ وٹامن کے ہڈیوں کی مضبوطی اور صحت کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ کاپر جسم میں توانائی کے استحالہ اور ٹشوز کی نشوونما میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ان اجزاء کی موجودگی انہیں ایک متوازن غذا کا ایک بہترین حصہ بناتی ہے۔

یہ پھل قدرتی طور پر ہائیڈریٹنگ خصوصیات کا حامل ہے اور اس میں موجود فائبر ہاضمے کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، انگور مختلف قسم کے فائٹو نیوٹرینٹس اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسمانی خلیات کو آکسیڈیٹو تناؤ سے بچانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اپنی کم کیلوریز کے باوجود، یہ جسم کو فوری توانائی فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

انگوروں میں موجود وٹامن بی-6 جیسے اہم غذائی اجزاء میٹابولزم کو متحرک رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ ان کا باقاعدہ استعمال جسم کو درکار ضروری معدنیات کی فراہمی میں مدد دے کر عمومی صحت اور تندرستی کو فروغ دیتا ہے۔ اپنی غذائی افادیت کے ساتھ ساتھ، یہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین انتخاب ہیں جو مٹھاس کی طلب کو کسی صحت مند اور قدرتی ذریعہ سے پورا کرنا چاہتے ہیں۔

تاریخ اور آغاز

انگوروں کی تاریخ انسانی تہذیب کی ابتداء سے جڑی ہوئی ہے۔ قدیم دور میں، انگور کی کاشتکاری مشرقِ وسطیٰ اور بحیرہ روم کے علاقوں میں شروع ہوئی، جہاں سے یہ بتدریج پوری دنیا میں پھیلی۔ تھامسن سیڈلیس قسم نے بیسویں صدی کے اوائل میں عالمی شہرت حاصل کی اور اپنی بیج سے پاک خصوصیت کی وجہ سے کمرشل سطح پر مقبولیت پائی۔

تاریخی طور پر، انگور کو نہ صرف خوراک بلکہ ثقافتی تقریبات اور آرٹ میں بھی ایک علامتی حیثیت حاصل رہی ہے۔ قدیم یونانی اور رومی تہذیبوں میں انگور کی فصل کو خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ جیسے جیسے تجارتی راستے کھلے، انگور کی یہ قسمیں برصغیر سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں پہنچیں اور مقامی ذائقوں میں ضم ہو گئیں۔

جدید زرعی تحقیق نے تھامسن سیڈلیس انگوروں کی پیداوار کو اور بھی مستحکم اور معیاری بنا دیا ہے۔ آج یہ انگور عالمی تجارت میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں اور جدید کولڈ اسٹوریج ٹیکنالوجی کی بدولت یہ دنیا کے کونے کونے میں اپنی تازگی برقرار رکھتے ہوئے پہنچ جاتے ہیں۔