انگور
پھل

غذائیت کی جھلکیاں

کچاچھلکے کے ساتھثابتسرخ یا سبز
فی
(49g)
0.35gپروٹین
8.87gکل کاربوہائیڈریٹس
0.08gکل چکنائی
کیلوریز
33.81 kcal
غذائی فائبر
1%0.44g
تانبا
6%0.06mg
وٹامن کے (Phylloquinone)
5%7.15μg
تھایامن (B1)
2%0.03mg
رائبو فلیون (B2)
2%0.03mg
وٹامن بی 6
2%0.04mg
پوٹاشیم
1%93.59mg
وٹامن سی
1%1.57mg
مینگنیز
1%0.03mg

انگور

تعارف

انگور ایک انتہائی مقبول اور قدیم پھل ہے جو اپنی مٹھاس اور تازگی کے لیے دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ یہ انگور کی بیل پر گچھوں کی صورت میں اگتا ہے اور اس کی رنگت سبز، سرخ اور سیاہ سمیت کئی اقسام میں پائی جاتی ہے۔ انگور نہ صرف کھانے میں لذت بخش ہیں بلکہ یہ انسانی تہذیب کی خوراک میں ہزاروں سالوں سے ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔

اس پھل کی نرم جلد اور رسیلا گودا اسے ایک بہترین اور آسان سنیک بناتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں اور میدانی حصوں میں انگور کی کاشت وسیع پیمانے پر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ موسم گرما اور خزاں میں ہر خاص و عام کی پہنچ میں ہوتا ہے۔ مختلف اقسام کا ذائقہ ہلکے ترش سے لے کر بھرپور میٹھے تک ہو سکتا ہے، جو اسے ہر عمر کے لوگوں کے لیے پرکشش بناتا ہے۔

انگور کا شمار ان پھلوں میں ہوتا ہے جو قدرت کی طرف سے پیک کیے ہوئے ہوتے ہیں، یعنی آپ انہیں دھو کر فوری طور پر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی ان کا رس اور تازگی بخش ذائقہ ہے جو جسم کو فوری توانائی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

پکوان میں استعمال

انگور کو عام طور پر کچا ہی کھایا جاتا ہے، لیکن باورچی خانے میں ان کا استعمال اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ انہیں پھلوں کے سلاد میں شامل کرنا ہو یا دہی کے ساتھ ملا کر ایک ہلکا ناشتہ تیار کرنا، یہ ہر جگہ اپنی مٹھاس کا تڑکا شامل کر دیتے ہیں۔ انگور کے رس کو ابال کر گاڑھا شربت یا جام بھی تیار کیا جاتا ہے جو ناشتے میں انتہائی لذت دار لگتا ہے۔

پاکستانی دسترخوانوں میں انگور کا استعمال اکثر پھلوں کی چاٹ میں کیا جاتا ہے، جہاں ان کی مٹھاس دیگر پھلوں کے کھٹے میٹھے ذائقوں کے ساتھ بہترین توازن پیدا کرتی ہے۔ مغربی کھانوں میں انگور کو پنیر اور خشک میوہ جات کے ساتھ پیش کرنا ایک کلاسک جوڑی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، انگور کو روسٹ کر کے گوشت کے پکوانوں کے ساتھ بطور سائیڈ ڈش بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس سے ایک منفرد ذائقہ پیدا ہوتا ہے۔

اگر آپ انگور کو جمنے کے لیے فریزر میں رکھیں تو یہ ایک بہترین منجمد مٹھائی بن جاتے ہیں جسے گرمیوں میں شوق سے کھایا جاتا ہے۔ ان کے بیجوں سے نکلنے والا تیل بھی اپنی افادیت کے باعث جدید پکوانوں میں استعمال ہونے لگا ہے۔ انگور کی ورسٹائل فطرت اسے گھر میں بننے والے مختلف میٹھے پکوانوں اور مشروبات کے لیے ایک لازمی جزو بناتی ہے۔

غذائیت اور صحت

انگور اپنی بہترین غذائی ساخت کی بدولت صحت کے لیے ایک متوازن تحفہ ہیں۔ یہ خاص طور پر وٹامن کے کا ایک اچھا ذریعہ ہیں جو ہڈیوں کی مضبوطی اور خون جمنے کے عمل کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان میں موجود تانبا یعنی کاپر توانائی پیدا کرنے والے نظام اور خلیوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری عنصر ہے، جو مجموعی جسمانی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔

انگوروں میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو آکسیڈیٹو تناؤ سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، جس سے مدافعتی نظام کو تقویت ملتی ہے۔ یہ پھل اپنی پانی کی زیادہ مقدار کی وجہ سے جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے، جو گرم موسم میں جسمانی توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔ انگور میں فائبر کی موجودگی ہاضمے کے نظام کو درست رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔

انگور کا باقاعدہ استعمال جسم کو وٹامنز اور معدنیات کا ایک ایسا امتزاج فراہم کرتا ہے جو دل کی صحت اور میٹابولزم کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ قدرت نے اس پھل کو ایسے مرکبات سے نوازا ہے جو طویل مدتی صحت کے لیے سازگار ہیں۔ اسے روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنا ایک صحت مند طرز زندگی اپنانے کا آسان اور لذیذ طریقہ ہے۔

تاریخ اور آغاز

انگور کی تاریخ انسانی تہذیب کی ترقی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انگور کی کاشت کا آغاز تقریباً آٹھ ہزار سال قبل قفقاز کے علاقوں میں ہوا تھا۔ وہاں سے یہ فصل مشرق وسطیٰ اور پھر پوری دنیا میں پھیل گئی، جہاں اسے نہ صرف غذا کے طور پر بلکہ مختلف ثقافتی اور مذہبی رسومات میں بھی اہمیت حاصل رہی۔

قدیم یونانی اور رومی تہذیبوں میں انگور کو دیوتاؤں کا پھل سمجھا جاتا تھا اور اسے فن اور شاعری میں بھی نمایاں مقام حاصل تھا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں انگور کی کاشت کے طریقوں میں جدت آتی رہی، جس کے نتیجے میں آج ہمارے پاس انگور کی بیسیوں اقسام موجود ہیں۔ عالمی تجارت کی تاریخ میں بھی انگور اور اس سے بننے والی مصنوعات کا ایک کلیدی کردار رہا ہے۔

آج انگور دنیا کے تقریباً ہر خطے میں کامیابی کے ساتھ اگائے جا رہے ہیں۔ جدید زرعی تحقیق نے ایسے انگور تیار کیے ہیں جو ہر موسم اور آب و ہوا کے مطابق ڈھل سکتے ہیں، جس سے یہ پھل اب سال بھر بازاروں میں دستیاب ہوتا ہے۔ یہ تاریخی سفر انگور کی پائیدار مقبولیت اور انسانیت کے لیے اس کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔