مالابار پالک
سبزیاں

غذائیت کی جھلکیاں

مالابار پالک

پکا ہواپتے
فی
(17g)
0.51gپروٹین
0.46gکل کاربوہائیڈریٹس
0.13gکل چکنائی
کیلوریز
3.91 kcal
غذائی فائبر
1%0.36g
فولیٹ
4%19.38μg
تانبا
2%0.02mg
میگنیشیم
1%8.16mg
مینگنیز
1%0.04mg
رائبو فلیون (B2)
1%0.02mg
کیلشیم
1%21.08mg
تھایامن (B1)
1%0.02mg
آئرن
1%0.25mg

مالابار پالک

تعارف

مالابار پالک، جسے اردو میں عام طور پر پوئی ساگ یا بچلی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک منفرد اور غذائیت سے بھرپور بیل نما سبزی ہے۔ یہ عام پالک سے بالکل مختلف ہے کیونکہ اس کی بیلیں تیزی سے پھیلتی ہیں اور اس کے پتے گوشت دار اور چمکدار ہوتے ہیں۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا گہرا سبز رنگ اور مخصوص لیس دار ساخت ہے جو اسے دیگر پتوں والی سبزیوں سے ممتاز کرتی ہے۔

یہ پودا گرم مرطوب آب و ہوا میں انتہائی شاندار طریقے سے پروان چڑھتا ہے، اسی لیے برصغیر پاک و ہند کے خطوں میں اسے بہت شوق سے اگایا جاتا ہے۔ اس کی بیلیں نہ صرف سبزیاں فراہم کرتی ہیں بلکہ اپنے خوبصورت پتوں اور گہرے جامنی رنگ کے پھلوں کی وجہ سے گھر کے باغیچوں کی رونق بھی بڑھاتی ہیں۔ یہ ایک ایسی سبزی ہے جو گرمیوں کے سخت موسم میں بھی تروتازہ رہتی ہے۔

پکوان میں استعمال

مالابار پالک کا ذائقہ ہلکا اور خوشگوار ہوتا ہے، اور پکانے کے دوران اس کی لیس دار ساخت گریوی والے کھانوں میں گاڑھا پن پیدا کرنے کے لیے بہترین کام کرتی ہے۔ اسے عموماً پکا کر کھایا جاتا ہے، اور اس کے پتوں کو بہت باریک کاٹنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ پکنے کے بعد خود ہی نرم ہو جاتے ہیں۔ اسے دیگر سبزیوں کے ساتھ ملا کر بھوننا یا سالن بنانا سب سے مقبول طریقہ ہے۔

پاکستانی کھانوں میں اسے دالوں کے ساتھ ملا کر پکانا ایک روایت ہے، جس سے دال کا ذائقہ اور غذائیت دونوں بڑھ جاتے ہیں۔ یہ لہسن، ادرک اور ثابت لال مرچ کے تڑکے کے ساتھ نہایت لذیذ لگتی ہے، جبکہ کچھ لوگ اسے آلو یا گوشت کے سالن میں بھی شامل کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے نوجوان پتے سلاد میں استعمال کیے جا سکتے ہیں، تاہم پکانے کے بعد اس کا ذائقہ زیادہ نکھر کر سامنے آتا ہے۔

غذائیت اور صحت

مالابار پالک صحت کے لیے انتہائی مفید اجزاء کا خزانہ ہے، خاص طور پر فولاد اور کیلشیم کی موجودگی اسے ہڈیوں کی مضبوطی اور خون کی گردش کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتی ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسمانی مدافعتی نظام کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس سے جسم کو موسمی بیماریوں سے لڑنے میں مدد ملتی ہے۔

اس سبزی کا ایک اور اہم پہلو اس میں موجود غذائی ریشے یعنی فائبر کی مقدار ہے، جو نظام انہضام کو درست رکھنے اور آنتوں کی صحت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ کم کیلوریز ہونے کی وجہ سے یہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین غذا ہے جو صحت بخش اور ہلکی پھلکی خوراک کے خواہشمند ہیں۔ اس کے علاوہ، اس میں موجود وٹامنز اور معدنیات کا مجموعہ جسمانی توانائی کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

تاریخ اور آغاز

مالابار پالک کا اصل وطن خطہ استوا کے قریب واقع ایشیائی ممالک مانے جاتے ہیں، جہاں سے یہ تاریخ کے سفر کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر گرم علاقوں میں پھیلی۔ اگرچہ اس کا نام 'مالابار' ہندوستان کے جنوبی ساحلی علاقے کی یاد دلاتا ہے، لیکن یہ ایشیا کے وسیع تر علاقوں میں قدیم زمانے سے استعمال ہوتی رہی ہے۔

تاریخی طور پر، یہ پودا نہ صرف اپنی غذائی افادیت بلکہ روایتی طبی طریقوں میں بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، یہ ایشیا سے نکل کر افریقہ، کیریبین اور امریکہ کے گرم خطوں تک پہنچ گیا، جہاں اسے اس کی تیز رفتار نشوونما اور آسانی سے اگنے کی صلاحیت کی وجہ سے بہت پذیرائی ملی۔ آج یہ دنیا بھر کے ان علاقوں میں ایک اہم سبزی کے طور پر جانی جاتی ہے جہاں گرم موسم زیادہ عرصہ رہتا ہے۔