سفید مرچ
جڑی بوٹیاں اور مصالحے

غذائیت کی جھلکیاں

سفید مرچ

خشکپسا ہوابیج
فی
(2g)
0.25gپروٹین
1.65gکل کاربوہائیڈریٹس
0.05gکل چکنائی
کیلوریز
7.104 kcal
غذائی فائبر
2%0.63g
مینگنیز
4%0.1mg
تانبا
2%0.02mg
آئرن
1%0.34mg
وٹامن سی
0%0.5mg
میگنیشیم
0%2.16mg
کیلشیم
0%6.36mg
فاسفورس
0%4.22mg
زنک
0%0.03mg

سفید مرچ

تعارف

سفید مرچ، جسے اکثر کالی مرچ کی ایک نفیس شکل سمجھا جاتا ہے، دراصل اسی پودے Piper nigrum کے پکے ہوئے بیجوں سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس کی تیاری کا عمل اسے کالی مرچ سے ممتاز بناتا ہے، کیونکہ اس کے بیرونی چھلکے کو اتار دیا جاتا ہے جس کے بعد صرف اندرونی بیج باقی رہ جاتا ہے۔

اس کا ظاہری رنگ ہلکا کریم یا سفید مائل ہوتا ہے، جو اسے ان کھانوں کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتا ہے جہاں کالی مرچ کے ذرات ناپسندیدہ محسوس ہوں۔ یہ اپنی مخصوص مہک اور تیز رفتاری سے اثر دکھانے والی ذائقے کی شدت کی بدولت دنیا بھر کے باورچی خانوں میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔

پاکستان اور برصغیر کے روایتی کھانوں میں اسے اکثر ایک باریک مسالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جو سالن کی رنگت کو متاثر کیے بغیر ایک خاص طرح کی گرمائش اور گہرائی فراہم کرتا ہے۔

پکوان میں استعمال

سفید مرچ کا استعمال خاص طور پر ان کھانوں میں کیا جاتا ہے جن کی ظاہری رنگت سفید یا ہلکی ہوتی ہے، جیسے سفید قورمہ، ملائی بوٹی یا مختلف قسم کے کریم بیسڈ سوپ۔ پسی ہوئی شکل میں یہ مسالہ کھانوں میں یکساں طور پر گھل مل جاتا ہے اور ایک متوازن ذائقہ پیدا کرتا ہے۔

اس کا ذائقہ کالی مرچ کی نسبت زیادہ سادہ، تیز اور فوری اثر رکھنے والا ہوتا ہے، جو اسے سمندری غذاؤں اور انڈوں پر مبنی پکوانوں کے لیے بہترین بناتا ہے۔ ماہرین باورچی اکثر اسے پکانے کے آخری مراحل میں شامل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ اس کی نازک خوشبو برقرار رہے۔

چینی اور تھائی کھانوں میں، خاص طور پر ہاٹ اینڈ سور سوپ اور فرائیڈ رائس میں، اس کا استعمال ایک بنیادی جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کھانوں میں ایک ہلکی سی تیزی پیدا کرتی ہے جو زبان پر دیرپا تاثر چھوڑتی ہے۔

غذائیت اور صحت

سفید مرچ غذائیت کے اعتبار سے مینگنیج اور کاپر جیسے اہم معدنیات کا ایک قابل قدر ذریعہ ہے، جو جسمانی میٹابولزم اور ہڈیوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس میں موجود فائبر کی موجودگی ہاضمے کے عمل کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

اس میں موجود 'پائپرین' نامی مرکب اسے ایک منفرد حیثیت دیتا ہے، جو نہ صرف اسے ذائقہ بخشتا ہے بلکہ دیگر غذائی اجزاء کو جسم میں جذب کرنے کی صلاحیت کو بھی بڑھاتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات کا حامل مسالہ مجموعی صحت کے لیے ایک اچھا اضافہ ہے، بشرطیکہ اسے متوازن مقدار میں استعمال کیا جائے۔

اپنی کیلوریز میں بہت کم ہونے کی وجہ سے، یہ وزن کا خیال رکھنے والے افراد کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے، کیونکہ یہ بغیر کسی اضافی توانائی کے کھانوں کا ذائقہ بڑھانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

تاریخ اور آغاز

سفید مرچ کی تاریخ بھی کالی مرچ کی طرح قدیم ہندوستان کے خطے سے جڑی ہے، جہاں سے یہ قدیم تجارتی راستوں کے ذریعے پوری دنیا میں پہنچی۔ اسے قدیم زمانے سے ہی ایک قیمتی مسالا سمجھا جاتا تھا اور اسے اکثر ادویاتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

یورپی ممالک میں سفید مرچ کی مانگ اس وقت بڑھی جب وہاں فرانسیسی اور دیگر مغربی کھانوں میں ایسی چٹنیوں کا رواج ہوا جن میں کالے دھبوں کی موجودگی کو بدصورت سمجھا جاتا تھا۔ اس طرح، بصری خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے سفید مرچ ایک کلاسک مسالے کے طور پر ابھری۔

آج یہ جنوب مشرقی ایشیا کے مختلف ممالک میں وسیع پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے اور عالمی منڈیوں میں ایک اہم تجارتی جنس کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ مسالہ صدیوں سے مختلف ثقافتوں میں ذائقے اور طبی فوائد کے امتزاج کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔