بھنڈی
منجمد اور نمک کے ساتھسبزیاں

غذائیت کی جھلکیاں

ابلا ہواسلائس کیا ہواپھلیاںنمکین
فی
(92g)
1.5gپروٹین
5.9gکل کاربوہائیڈریٹس
0.22gکل چکنائی
کیلوریز
26.68 kcal
غذائی فائبر
6%1.93g
وٹامن کے (Phylloquinone)
36%43.98μg
مینگنیز
33%0.78mg
فولیٹ
23%92μg
وٹامن سی
9%8.83mg
سوڈیم
9%219.88mg
میگنیشیم
8%36.8mg
تانبا
7%0.07mg
رائبو فلیون (B2)
6%0.09mg

بھنڈی

تعارف

بھنڈی جسے سائنسی زبان میں ایبل موسکس ایسکولینٹس کہا جاتا ہے، موسم گرما کی ایک نہایت مقبول اور پسندیدہ سبزی ہے۔ اس کے سرسبز اور لمبوترے پھل اپنی مخصوص ساخت اور ذائقے کی وجہ سے برصغیر پاک و ہند کے دسترخوانوں کا ایک لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ سبزی نہ صرف اپنی افادیت کے لیے مشہور ہے بلکہ اسے سالن، بھجیا اور دیگر پکوانوں میں استعمال کرنے کا رجحان ہر گھر میں پایا جاتا ہے۔

اس سبزی کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا ہلکا لیس دار مادہ ہے، جو پکانے کے بعد مختلف تراکیب میں ایک منفرد ساخت فراہم کرتا ہے۔ بھنڈی کی کئی اقسام موجود ہیں، جن میں گہرے سبز رنگ کی بھنڈی سب سے زیادہ پسند کی جاتی ہے۔ اس کی کاشت گرم اور مرطوب موسم میں بہترین ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں یہ گرمیوں کے آتے ہی منڈیوں میں وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہے۔

ایک بہترین سبزی ہونے کے ناطے، بھنڈی اپنی غذائی افادیت اور استعداد کی بدولت عالمی سطح پر بھی ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ اسے بہت کم وقت میں تیار کیا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے یہ مصروف افراد کے لیے ایک آسان انتخاب ہے۔ اس کا استعمال سادہ گھریلو پکوانوں سے لے کر جدید طرز کے سلاد اور سٹیر فرائی ڈشز تک وسیع پیمانے پر کیا جاتا ہے۔

پکوان میں استعمال

بھنڈی کو پکانے کے کئی روایتی اور جدید طریقے رائج ہیں۔ پاکستان میں اسے عموماً پیاز، ٹماٹر اور مصالحوں کے ساتھ بھون کر تیار کیا جاتا ہے، جسے بھنڈی مصالحہ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسے بیسن اور دہی کے ساتھ ملا کر بھی پکایا جاتا ہے، جس سے اس کا ذائقہ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔

اس کے ذائقے میں ایک ہلکی سی مٹھاس ہوتی ہے جو دھنیا، زیرہ، ہلدی اور سرخ مرچ جیسے گرم مصالحوں کے ساتھ بہترین ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ اکثر باورچی اس کی لیس کو ختم کرنے کے لیے پکاتے وقت لیموں کا رس یا امچور پاؤڈر کا استعمال کرتے ہیں، جو نہ صرف ساخت کو بہتر بناتا ہے بلکہ ایک خوشگوار ترش ذائقہ بھی دیتا ہے۔

بھنڈی کو کرسپی بنانے کے لیے اسے ہلکی آنچ پر ڈیپ فرائی کرنا یا اوون میں روسٹ کرنا بھی ایک مقبول طریقہ ہے۔ ایسے پکوان اکثر چائے کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں یا بطور سائیڈ ڈش دسترخوان کی زینت بنتے ہیں۔ اس کی استعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ گوشت اور دالوں کے ساتھ مل کر بھی نہایت ذائقہ دار پکوان تخلیق کرتی ہے۔

غذائیت اور صحت

بھنڈی اپنی غذائی افادیت کے لحاظ سے ایک نہایت مفید سبزی ہے، جس میں فولک ایسڈ اور وٹامن کے وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہ غذائی اجزاء انسانی جسم میں خون کے خلیوں کی تشکیل اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس میں موجود فائبر کی وافر مقدار نظام انہضام کی صحت کو بہتر بنانے اور آنتوں کے افعال کو درست رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اس سبزی میں مینگنیج جیسے معدنیات کا خزانہ موجود ہوتا ہے، جو جسم میں توانائی کے استحالہ اور اینٹی آکسیڈینٹ دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں معاون ہے۔ کم کیلوریز ہونے کے باعث یہ ان افراد کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے جو اپنے وزن کو متوازن رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کی قدرتی ساخت جسم میں طویل عرصے تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دلاتی ہے، جو صحت مند طرز زندگی کے لیے انتہائی مفید ہے۔

بھنڈی کا باقاعدہ استعمال انسانی قوت مدافعت کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتا ہے، کیونکہ اس میں موجود وٹامن سی اور دیگر مرکبات جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ اس کی غذائی ہم آہنگی اسے ایک ایسا مکمل انتخاب بناتی ہے جو نہ صرف ذائقے بلکہ صحت کے اعتبار سے بھی انسانی جسم کے تمام اہم اعضاء کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

تاریخ اور آغاز

بھنڈی کی اصل جائے پیدائش کے بارے میں تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ یہ خطہ افریقہ یا جنوبی ایشیا سے تعلق رکھتی ہے۔ قدیم زمانے سے ہی اسے ایک اہم خوراک کے طور پر کاشت کیا جاتا رہا ہے، اور اس کے بیجوں کو بعض تہذیبوں میں خشک کرکے بطور کافی کا متبادل بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

صدیوں کے سفر کے دوران یہ سبزی افریقہ سے مشرق وسطیٰ اور پھر جنوبی ایشیا تک پہنچی، جہاں کے گرم موسم نے اسے تیزی سے اپنانے میں مدد دی۔ عالمی سطح پر ہونے والی تجارتی نقل و حمل نے اسے یورپ اور امریکہ تک پہنچایا، جہاں اسے اب ایک مقبول غذائی عنصر کی حیثیت حاصل ہے۔

تاریخی اعتبار سے، بھنڈی کو نہ صرف بطور خوراک بلکہ بعض معاشروں میں روایتی ادویات کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ آج یہ سبزی عالمی زرعی پیداوار کا ایک اہم حصہ ہے، جس کی جدید اقسام نے پیداواری صلاحیت اور ذائقے میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، جس سے دنیا بھر کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔